تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 11

اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکۡرَ وَ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَبَشِّرۡہُ بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۱﴾
توُ تو صرف اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمان سے بن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے۔ En
تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو
En
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنْذِرُ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّ٘بَعَ الذِّكْرَ جس نے نصیحت کی پیروی کی۔ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجْرٍ كَرِیْمٍ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والقسم الثاني الذين قَبِلوا النِّذارَةَ وقد ذَكَرَهُم بقوله: {إنَّما تُنذِرُ}؛ أي: إنَّما تنفعُ نِذارَتُك ويَتَّعِظُ بنُصْحِكَ {مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ}؛ أي: من قصْدُهُ اتِّباع الحقِّ وما ذُكِّر به، {وخَشِيَ الرحمنَ بالغيبِ}؛ أي: مَنِ اتَّصف بهذين الأمرين: القصد الحسن في طلب الحقِّ، وخشية الله تعالى؛ فهم الذين ينتفعونَ برسالتِكَ ويَزْكُون بتعليمِكَ، وهذا الذي وُفِّقَ لهذين الأمرين، بشِّره {بمغفرةٍ}: لذُنوبه {وأجرٍ كريم}: لأعماله الصالحة ونيَّتِهِ الحسنةِ.