اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ہر ناشکرے کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
En
اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔ نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا ہی آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾ جنھوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ ﴿لَهُمْنَارُجَهَنَّمَ ﴾”ان کے لیے جہنم کی آگ ہے“ جہاں انھیں نہایت سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿لَایُ٘قْ٘ضٰىعَلَیْهِمْ ﴾”نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا“ موت کے ساتھ ﴿فَیَمُوْتُوْا﴾”کہ وہ مر جائیں“ اور آرام پا لیں ﴿وَلَایُخَفَّفُعَنْهُمْمِّنْعَذَابِهَا ﴾”اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔“ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ ﴿كَذٰلِكَنَجْزِیْكُ٘لَّكَفُوْرٍ﴾”ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى حال أهل الجنة ونعيمَهم؛ ذكر حالَ أهل النار وعذابَهم، فقال: {والذين كَفَروا}؛ أي: جحدوا ما جاءتْهم به رسُلُهم من الآيات وأنكروا لقاءَ ربِّهم، {لهم نارُ جهنَّم}: يعذَّبون فيها أشدَّ العذاب وأبلغ العقاب، {لا يُقْضى عليهم}: بالموت {فيمَوتوا}: فيستريحوا، {ولا يُخَفَّفُ عنهم من عذابِها}: فشدَّة العذاب وعِظَمُهُ مستمرٌّ عليهم في جميع الآنات واللحظات. {كذلك نجزي كلَّ كفورٍ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔