اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریںگے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا ۔
En
اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا
اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے ساتھ ساتھ ﴿اِنْتَدْعُوْهُمْ ﴾”اگر تم ان کو پکارو“ تو وہ تمھاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ ﴿وَلَوْسَمِعُوْا ﴾ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں ﴿مَااسْتَجَابُوْالَكُمْ ﴾”تو تمھاری بات قبول نہیں کریں گے۔“ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنابریں فرمایا: ﴿وَیَوْمَالْقِیٰمَةِیَكْ٘فُرُوْنَبِشِرْؔكِكُمْ ﴾”اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے“ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿سُبْحٰؔنَكَاَنْتَوَلِیُّنَامِنْدُوْنِهِمْ ﴾ (سبا:34؍41) ”تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔“﴿وَلَایُنَبِّئُكَمِثْ٘لُخَبِیْرٍ ﴾ یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم و خبیر سے زیادہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لیے آپ کو اس بارے میں قطعی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا: {إن تَدْعوهم}: لا يسمعوكم؛ لأنهم ما بين جمادٍ وأمواتٍ وملائكةٍ مشغولين بطاعة ربهم، {ولو سمعوا}: على وجه الفرض والتقدير {ما اسْتَجابوا لكم}: لأنَّهم لا يملِكون شيئاً ولا يرضى أكثرُهم بعبادةِ مَنْ عَبَدَه، ولهذا قال: {ويوم القيامةِ يكفُرونَ بشِرْكِكُم}؛ أي: يتبرؤون منكم، ويقولونَ: سبحانك أنتَ ولِيُّنا من دونهم، {ولا ينبِّئُك مثلُ خبيرٍ}؛ أي: لا أحدَ ينبِّئُكَ أصدقُ من الله العليم الخبيرِ؛ فاجْزِمْ بأنَّ هذا الأمر الذي نبأ به كأنه رأيُ عينٍ، فلا تشكَّ فيه ولا تمترِ. فتضمَّنَتْ هذه الآياتُ الأدلَّة والبراهين الساطعةَ الدالَّة على أنَّه تعالى المألوهُ المعبودُ الذي لا يستحقُّ شيئاً من العبادة سواه، وأنَّ عبادةَ ما سواه باطلةٌ متعلقةٌ بباطل لا تفيدُ عابده شيئاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔