اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کیا ہم تمھیں وہ آدمی بتائیں جو تمھیں خبر دیتا ہے کہ جب تم ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائو گے، پوری طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جانا، تو بلاشبہ تم یقینا بالکل نئی پیدائش میں ہو گے۔
En
اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہو جاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوگے
اور کافروں نے کہا (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلْنَدُلُّكُمْعَلٰىرَجُلٍیُّنَبِّئُكُمْاِذَامُزِّقْتُمْكُ٘لَّمُمَزَّقٍ١ۙاِنَّـكُمْلَ٘فِیْخَلْ٘قٍجَدِیْدٍ﴾”کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔“ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ”جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وقال الذين كفروا}: على وجه التكذيب والاستهزاء والاستبعاد، وذِكْر وجه الاستبعاد؛ أي: قال بعضُهم لبعض: {هل ندلُّكم على رَجُل يُنَبِّئُكُم إذا مُزِّقْتُم كلَّ مُمَزَّقٍ إنَّكم لَفي خَلْقٍ جديدٍ}؛ يعنون بذلك الرجل رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّه رجلٌ أتى بما يُستغرب منه، حتى صار بزعمهم فرجةً يتفرَّجون عليه وأعجوبةً يسخرون منه، وأنَّه كيف يقولُ: إنكم مبعوثون بعد ما مَزَّقَكُمُ البِلى وتفرَّقت أوصالُكم، واضمحلَّتْ أعضاؤكم!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔