تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 4

لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾
تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے
En
تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزْقٌ كَرِیْمٌ اور عزت کی روزی ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر المقصودَ من البعث، فقال: {ليجزِيَ الذين آمنوا}: بقلوبهم صدَّقوا الله، وصدَّقوا رسله تصديقاً جازماً، {وعملوا الصالحاتِ}: تصديقاً لإيمانهم. {أولئك لهم مغفرةٌ}: لذنوبهم، بسبب إيمانهم وعملهم يندفعُ بها كلُّ شرٍّ وعقابٍ، {ورزقٌ كريمٌ}: بإحسانهم، يحصلُ لهم به كلُّ مطلوبٍ ومرغوبٍ وأمنيَّة.