تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 28

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اورہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ En
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
﴿وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه ما أرسل رسولَه - صلى الله عليه وسلم - إلا ليبشِّر جميع الناس بثواب الله، ويخبِرَهم بالأعمال الموجبة لذلك، وينذِرَهم عقاب الله، ويخبِرَهم بالأعمال الموجبة له؛ فليس لك من الأمر شيءٌ، وكلُّ ما اقْتَرَحَ عليك أهلُ التكذيب والعنادِ؛ فليس من وظيفتِكَ، إنَّما ذلك بيد الله تعالى. {ولكنَّ أكثرَ الناس لا يعلمونَ}؛ أي: ليس لهم علمٌ صحيحٌ، بل إمَّا جهالٌ أو معاندونَ لم يعملوا بعلمهم، فكأنَّهم لا علم لهم، ومن عدم علمِهِم جَعْلُهُم عدمَ الإجابة لما اقترحوه على الرسول موجباً لردِّ دعوته.