وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی نہایت رحم والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
En
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿یَعْلَمُمَایَلِجُفِیالْاَرْضِ ﴾”جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے“ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَایَخْرُجُمِنْهَا ﴾”اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔“ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَایَنْزِلُمِنَالسَّمَآءِ ﴾”اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے“ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَایَعْرُجُفِیْهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَالرَّحِیْمُالْغَفُوْرُ ﴾”وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔“ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا فصَّلَ علمَه بقولِهِ: {يعلم ما يَلِجُ في الأرضِ}؛ أي: من مطر وبذرٍ وحيوان، {وما يخرُجُ منها}: من أنواع النباتاتِ وأصناف الحيواناتِ، {وما ينزِلُ من السماءِ}: من الأملاك والأرزاق والأقدار، {وما يعرُجُ فيها}: من الملائكة والأرواح وغير ذلك. ولمَّا ذَكَرَ مخلوقاتِهِ وحكمتَه فيها وعلمَه بأحوالها؛ ذكر مغفرتَه ورحمتَه لها، فقال: {وهو الرحيمُ الغفورُ}؛ أي: الذي الرحمة والمغفرة وصفُه، ولم تزلْ آثارُهُما تنزِلُ على العباد كلَّ وقتٍ بحسب ما قاموا به من مقتضياتهما.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔