اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی اور ایسے لشکر جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھنے والا تھا۔
En
مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا: ﴿وَاِذْزَاغَتِالْاَبْصَارُوَبَلَغَتِالْقُلُوْبُالْحَنَاجِرَوَتَظُنُّوْنَبِاللّٰهِالظُّنُوْنَا ﴾”اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔
﴿هُنَالِكَابْتُ٘لِیَالْمُؤْمِنُوْنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلْ٘زِلُوْازِلْ٘زَالًاشَدِیْدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّارَاَالْمُؤْمِنُوْنَالْاَحْزَابَ١ۙقَالُوْاهٰؔذَامَاوَعَدَنَااللّٰهُوَرَسُوْلُهٗوَصَدَقَاللّٰهُوَرَسُوْلُهٗ١ٞوَمَازَادَهُمْاِلَّاۤاِیْمَانًاوَّتَسْلِیْمًا﴾ (الاحزاب:33؍22) ”اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكِّر تعالى عبادَه المؤمنين نعمته عليهم، ويحثُّهم على شكرها حين جاءتهم جنودُ أهل مكَّة والحجاز من فوقهم وأهل نجد من أسفلَ منهم، وتعاقَدوا وتعاهدوا على استئصال الرسول والصحابة، وذلك في وقعة الخندق، ومالأتهم طوائفُ اليهود الذين حوالي المدينة، فجاؤوا بجنودٍ عظيمةٍ وأمم كثيرة، وخندقَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - على المدينة، فحصروا المدينة، واشتدَّ الأمر، وبلغتِ القلوب الحناجرَ، حتى بلغ الظنُّ من كثير من الناس كلَّ مبلغ لما رأوا من الأسباب المستحكمة والشدائد الشديدة، فلم يزل الحصارُ على المدينة مدةً طويلة، والأمر كما وصف الله: {وإذْ زاغتِ الأبصارُ وبلغتِ القلوبُ الحناجرَ وتظنُّونَ بالله الظُّنونا}؛ أي: الظنون السيئة أنَّ الله لا ينصر دينَه ولا يتمُّ كلمته، {هنالك ابْتُلي المؤمنون}: بهذه الفتنة العظيمة، {وزُلْزِلوا زلزالاً شديداً}: بالخوف والقلق والجوع؛ ليتبيَّن إيمانهم ويزيد إيقانهم، فظهر ولله الحمد من إيمانهم وشدة يقينهم ما فاقوا فيه الأولين والآخرين. وعندما اشتدَّ الكربُ وتفاقمتِ الشدائدُ؛ صار إيمانُهم عين اليقين، {فلمَّا رأى المؤمنونَ الأحزابَ قالوا هذا ما وَعَدَنا اللهُ ورسولُه وصدق الله ورسوله وما زادَهُم إلاَّ إيماناً وتسليماً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔