تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور (تاکہ) اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ، نہایت رحم والا ہے ۔
En
تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ اور مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں:
(۱) منافقین: جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔
(۲) مشرکین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کر دیا ہے۔
(۳) مومنین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّیُعَذِّبَاللّٰهُالْ٘مُنٰفِقِیْنَوَالْمُنٰفِقٰتِوَالْ٘مُشْرِكِیْنَوَالْ٘مُشْرِكٰتِوَیَتُوْبَاللّٰهُعَلَىالْمُؤْمِنِیْنَوَالْمُؤْمِنٰتِ١ؕوَكَانَاللّٰهُغَفُوْرًارَّحِیْمًا ﴾”تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔“ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بے پایاں رحمت اور لامحدود جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فانقسم الناس بحسب قيامهم بها وعدمِهِ إلى ثلاثة أقسام: منافقون [أظهروا أنهم] قاموا بها ظاهراً لا باطناً، ومشركون تركوها ظاهراً وباطناً، ومؤمنون قائمون بها ظاهراً وباطناً. فذكرَ الله تعالى أعمالَ هذه الأقسام الثلاثة وما لهم من الثوابِ والعقابِ، فقال: {ليعذِّبَ الله المنافقينَ والمنافقاتِ والمشركينَ والمشركاتِ ويتوبَ الله على المؤمنين والمؤمنات وكان الله غفوراً رحيماً}: فله تعالى الحمدُ حيث خَتَمَ هذه الآية بهذين الاسمين الكريمين الدالَّيْن على تمام مغفرةِ الله وسعة رحمتِهِ وعموم جوده، مع أنَّ المحكوم عليهم كثيرٌ، منهم لم يستحقَّ المغفرة والرحمة، لنفاقِهِ وشركِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔