تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 67

وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾
اور کہیں گے اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تو انھوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کر دیا۔ En
اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو رستے سے گمراہ کردیا
En
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ٘ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّؔخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا۰۰ یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّؔخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا۰۰ لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَؔكَانَ الشَّ٘یْطٰ٘نُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا (الفرقان:25/27-29) اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا ربَّنا إنَّا أطَعْنا سادتنا وكبراءنا}: وقلَّدْناهم على ضلالهم، {فأضَلُّونا السبيلا}؛ كقوله تعالى: {ويوم يَعَضُّ الظالمُ على يديهِ يقولُ يا ليتني اتَّخَذْتُ مع الرسولِ سبيلاً. يا وَيْلتى لَيْتَني لم أتَّخِذْ فلاناً خليلاً. لقد أضلَّني عن الذِّكْر [بعد إذ جاءني] ... } الآية.