تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوْارَبَّنَاۤاِنَّـاۤ٘اَطَعْنَاسَادَتَنَاوَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾”اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا“ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوْنَاالسَّبِیْلَا﴾”تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَیَوْمَیَعَضُّالظَّالِمُعَلٰىیَدَیْهِیَقُوْلُیٰلَیْتَنِیاتَّؔخَذْتُمَعَالرَّسُوْلِسَبِیْلًا۰۰یٰوَیْلَتٰىلَیْتَنِیْلَمْاَتَّؔخِذْفُلَانًاخَلِیْلًا۰۰لَقَدْاَضَلَّنِیْعَنِالذِّكْرِبَعْدَاِذْجَآءَنِیْ١ؕوَؔكَانَالشَّ٘یْطٰ٘نُلِلْاِنْسَانِخَذُوْلًا﴾ (الفرقان:25/27-29) ”اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا ربَّنا إنَّا أطَعْنا سادتنا وكبراءنا}: وقلَّدْناهم على ضلالهم، {فأضَلُّونا السبيلا}؛ كقوله تعالى: {ويوم يَعَضُّ الظالمُ على يديهِ يقولُ يا ليتني اتَّخَذْتُ مع الرسولِ سبيلاً. يا وَيْلتى لَيْتَني لم أتَّخِذْ فلاناً خليلاً. لقد أضلَّني عن الذِّكْر [بعد إذ جاءني] ... } الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔