تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان آیات کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال، اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں آپ کے بلند درجات، آپ کی بلند قدرومنزلت اور آپ کے ذکرِ رفیع کی طرف اشارہ ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّاللّٰهَوَمَلٰٓىِٕكَتَهٗیُصَلُّوْنَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں اور ملأاعلیٰ کے سامنے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا بیان کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ تمام فرشتے آپ کی مدح و ثنا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
﴿یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْاصَلُّوْاعَلَیْهِوَسَلِّمُوْاتَسْلِیْمًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی اقتدا میں، آپ کے بعض حقوق کی جزا کے طور پر، اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے، آپ کی تعظیم کی خاطر، آپ سے محبت اور آپ کے اکرام و تکریم کے اظہار کے لیے، اپنی نیکیوں میں اضافہ کرنے اور اپنی برائیوں کے کفارہ کے لیے اے مومنو! تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی بہتر شکل وہ ہے جو آپ نے اپنے صحابہ کرا م کو سکھائی ہے، لہٰذا آپ نے فرمایا: ’أَللّٰھُمَّصَلِّعَلٰیمُحَمَّدٍوَّعَلٰیآلِمُحَمَّدٍکَمَاصَلَّیْتَعَلٰیاِبْرَاہِیمَوَعَلٰیآلِاِبْرَاہِیمَاِنَّکَحَمِیدٌمَّجِیدٌ۔اَللَّہُمَّبَارِکْعَلٰیمُحَمَّدِوَّعَلٰیآلِمُحَمَّدٍکَمَابَارَکْتَعَلٰیاِبْرَاھِیمَوَعَلٰیآلِاِبْراہِیمَاِنَّکَحَمِیدٌمَّجِیدٌ(صحیح البخاري، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب: 10، حدیث: 3370)
درود وسلام کا یہ حکم، تمام اوقات میں مشروع ہے اور بہت سے اہل علم نے اسے نماز کے اندر واجب قرار دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا فيه تنبيهٌ على كمال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ورفعةِ درجتِهِ وعلوِّ منزلته عند الله وعند خلقه ورفع ذِكْرِهِ، و {إنَّ الله} تعالى {وملائكتَه يصلُّون} عليه؛ أي: يثني الله عليه بين الملائكةِ وفي الملأ الأعلى لمحبَّته تعالى له، ويُثني عليه الملائكة المقرَّبون، ويدعون له ويتضرَّعون. {يا أيُّها الذين آمنوا صلُّوا عليه وسلِّموا تسليماً}: اقتداءً بالله وملائكته، وجزاءً له على بعض حقوقِهِ عليكم، وتكميلاً لإيمانكم، وتعظيماً له - صلى الله عليه وسلم - ومحبةً وإكراماً، وزيادةً في حسناتكم. وتكفيراً من سيئاتكم، وأفضلُ هيئات الصلاة عليه ـ عليه الصلاة والسلام ـ ما علَّم به أصحابه: «اللهمَّ صلِّ على محمد وعلى آل محمدٍ كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وبارك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ كما باركت على آل إبراهيم إنَّك حميدٌ مجيدٌ». وهذا الأمر بالصلاة والسلام عليه مشروعٌ في جميع الأوقات، وأوجبَه كثيرٌ من العلماء في الصلاة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔