نبی پر اس کام میں کبھی کوئی تنگی نہیں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دیا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اندازے کے مطابق ہے، جو طے کیا ہوا ہے۔
En
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿مَاكَانَعَلَىالنَّبِیِّمِنْحَرَجٍ ﴾”نبی پر کوئی حرج نہیں ہے۔“ یعنی گناہ ﴿فِیْمَافَرَضَاللّٰهُلَهٗ﴾”ان چیزوں میں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کثرت ازواج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لیے مباح کیا۔، اس لیے فرمایا: ﴿سُنَّةَاللّٰهِفِیالَّذِیْنَخَلَوْامِنْقَبْلُ١ؕوَكَانَاَمْرُاللّٰهِقَدَرًامَّقْدُوْرَا﴾”جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کا حکم ٹھہر چکا ہے۔“ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا دفعٌ لطعن من طعن في الرسول - صلى الله عليه وسلم - في كثرة أزواجه، وأنَّه طعنٌ بما لا مطعنَ فيه، فقال: {ما كان على النبيِّ من حرجٍ}؛ أي: إثم وذنب {فيما فَرَضَ الله له}؛ أي: قدَّر له من الزوجات؛ فإنَّ هذا قد أباحه الله له كما أباحه للأنبياء قبلَه، ولهذا قال: {سنةَ الله في الذين خَلَوا من قبلُ وكان أمرُ الله قَدَراً مَقْدوراً}؛ أي: لا بدَّ من وقوعِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔