تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 31

وَ مَنۡ یَّقۡنُتۡ مِنۡکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تَعۡمَلۡ صَالِحًا نُّؤۡتِہَاۤ اَجۡرَہَا مَرَّتَیۡنِ ۙ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہَا رِزۡقًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾
اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی اسے ہم اس کا اجر دو بار دیں گے اور ہم نے اس کے لیے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ En
اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی۔ اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اس کے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے
En
اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْؔكُ٘نَّ یعنی تم میں جو کوئی اطاعت شعار ہو گی ﴿لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَتَعْمَلْ صَالِحًا اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت ﴿نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ ہم اسے دگنا اجر دیں گے یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو اُن سے دوگنا اجر عطا کریں گے ﴿وَاَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔ اس سے مراد جنت ہے، چنانچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کیے تو اس سے ان کا اجر و ثواب بھی معلوم ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومَن يَقْنُتْ منكنَّ}؛ أي: تطيع اللهَ ورسولَه وتعملْ صالحاً قليلاً أو كثيراً، {نؤتِها أجْرَها مرَّتينِ}؛ أي: مثل ما نعطي غيرها مرَّتين، {وأعْتَدْنا لها رزقاً كريماً}: وهي الجنة، فَقَنَتْنَ للهِ ورسوله وعَمِلْنَ صالحاً، فعلم بذلك أجرهنَّ.