تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 28

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ En
اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت وآرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح سے رخصت کردوں
En
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول اللہ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلاء (زو جہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کو آسان اور آپ کی ازواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُ٘لْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَهَا اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔ یعنی اگر دنیا کے سوا تمھارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو۔ اگر تمھارا یہی حال ہے تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں۔ ﴿فَتَعَالَیْ٘نَ اُمَتِّعْكُ٘نَّ تو آؤ میں تمھیں کچھ مال دوں۔ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمھیں عطا کر دوں۔ ﴿وَاُسَرِّحْؔكُ٘نَّ اور تمھیں الگ کر دوں ﴿سَرَاحًا جَمِیْلًا یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمھیں آزاد کر دوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما اجتمع نساءُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عليه في الغيرة، وطلبن منه النفقة والكسوة؛ طلبنَ منه أمراً لا يقدر عليه في كلِّ وقت، ولم يَزَلْنَ في طلبهنَّ متَّفقات وفي مرادهنَّ متعنِّتات، فشقَّ ذلك على الرسول، حتى وصلت به الحالُ إلى أنه آلى منهنَّ شهراً، فأراد الله أن يسهِّلَ الأمرَ على رسولِهِ، وأن يرفع درجةَ زوجاتِهِ، ويُذْهِبَ عنهنَّ كلَّ أمر ينقص أجرهنَّ فأمر رسولَه أن يخيِّرهنَّ ، فقال: {يا أيُّها النبيُّ قلْ لأزواجِك إن كنتنَّ تردنَ الحياةَ الدُّنيا}؛ أي: ليس لَكُنَّ في غيرها مطلبٌ، وصرتنَّ ترضينَ لوجودها وتغضبنَ لِفَقْدِها؛ فليس لي فيكنَّ أربٌ وحاجةٌ وأنتنَّ بهذه الحال، {فتعالَيْن أمتِّعْكُنَّ}: شيئاً مما عندي من الدنيا، {وأسرِّحْكُنَّ}؛ أي: أفارقكن {سراحاً جميلاً}: من دون مغاضبةٍ ولا مشاتمةٍ، بل بسعة صدرٍ وانشراح بال، قبل أن تبلغَ الحالُ إلى ما لا ينبغي.