تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 12

وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾
اور جب منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کچھ بیماری ہے، کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا دینے کے لیے وعدہ کیا تھا۔ En
اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا
En
اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ منافق کی عادت ہے کہ مصیبت اور امتحان کے وقت اس کا ایمان قائم نہیں رہتا۔ وہ موجودہ حالت میں اپنی کوتاہ عقل سے غور کرتا ہے اور اپنے ناقص گمان کی تصدیق کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه عادة المنافق عند الشدَّة والمحنة؛ لا يثبتُ إيمانه، وينظُر بعقله القاصر إلى الحالة الحاضرة ، ويصدِّق ظنَّه.