تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 22

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ یقینا ہم ان مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ En
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں
En
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور زیادتی کرنے والا کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی ہو جنھیں اس کے رب نے اس کے پاس پہنچایا ہو اور وہ اپنے رسولوں کے ہاتھوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان اور اپنی نعمت کی تکمیل کرنا چاہتا ہو۔ وہ آیات اسے اس کے دینی اور دنیاوی مصالح کے بارے میں نصیحت کرتی اور حکم دیتی ہیں، اسے دینی اور دنیاوی ضرر رساں امور سے روکتی ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو ایمان و تسلیم اور شکرو اطاعت کے ساتھ قبول کیا جائے، مگر اس ظالم نے ایسے طریقے سے ان آیات کا استقبال کیا جو ان کے لائق نہ تھا۔ یہ ظالم ان پر ایمان لایا نہ ان کی پیروی کی بلکہ ان سے اعراض کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا اور ان کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا یہ ان مجرموں میں سب سے بڑا مجرم ہے جو سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَبے شک ہم گناہ گاروں سے بدلہ لینے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا أحد أظلمُ وأزيدُ تعدِّياً ممَّنْ ذُكِّرَ بآيات ربِّه، التي أوصلها إليه ربُّه، الذي يريد تربيتَه وتكميلَ نعمتِهِ عليه على يدِ رسلِهِ، تأمره وتذكِّره مصالحه الدينيَّة والدنيويَّة، وتنهاه عن مضارِّه الدينيَّة والدنيويَّة، التي تقتضي أنْ يقابِلَها بالإيمان والتسليم والانقياد والشكر، فقابلها هذا الظالمُ بضدِّ ما ينبغي، فلم يؤمنْ بها ولا اتَّبَعها، بل أعرض عنها وتركها وراء ظهرِهِ؛ فهذا من أكبر المجرمين، الذين يستحقُّون شديد النقمة، ولهذا قال: {إنَّا من المجرِمين منتَقِمون}.