تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 13

وَ اِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَ ہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، جب کہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے چھوٹے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ En
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
En
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذْ قَالَ لُ٘قْ٘مٰنُ لِابْنِهٖ وَهُوَ یَعِظُهٗ اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ یقینا شرک ظلم عظیم ہے اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟
کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذ قال لقمانُ لابنِهِ وهو يَعِظُهُ}؛ أو: قال له قولاً به يعظه، والوعظُ: الأمرُ والنهيُ المقرون بالترغيب والترهيب؛ فأمَرَهُ بالإخلاص ونهاه عن الشرك وبيَّن له السبب في ذلك، فقال: {إنَّ الشركَ لظلمٌ عظيمٌ}: ووجه كونه عظيماً أنَّه لا أفظع وأبشع ممَّن سوَّى المخلوق من تراب بمالك الرقاب، وسوَّى الذي لا يملك من الأمر شيئاً بمالك الأمرِ كلِّه، وسوَّى الناقص الفقير من جميع الوجوه بالربِّ الكامل الغنيِّ من جميع الوجوه، وسوَّى مَن لم يُنْعِمْ بمثقال ذرَّةٍ من النعم، بالذي ما بالخلق من نعمةٍ في دينهم ودنياهم وأخراهم وقلوبهم وأبدانهم إلاَّ منه، ولا يصرف السوء إلاَّ هو؛ فهل أعظم من هذا الظلم شيءٌ؟! وهل أعظمُ ظلماً ممَّن خلقه الله لعبادته وتوحيدِهِ، فذهب بنفسه الشريفة، فجعلها في أخسِّ المراتب، جعلها عابدةً لمن لا يسوى شيئاً، فظلم نفسه ظلماً كبيراً؟!