اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اوران کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بے شک بہت سے لوگ یقینا اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔
En
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِیْۤاَنْفُسِهِمْ ﴾”اپنے آپ پر؟“ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔
﴿مَاخَلَقَاللّٰهُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَوَمَابَیْنَهُمَاۤاِلَّابِالْحَقِّ ﴾”اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔“ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍمُّ٘سَمًّى ﴾”اور وقت مقرر تک۔“ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّكَثِیْرًامِّنَالنَّاسِبِلِقَآئِرَبِّهِمْلَكٰفِرُوْنَ ﴾”اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔“ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أفلم يتفكَّر هؤلاء المكذِّبون لرسل الله ولقائه {في أنفسهم}؛ فإنَّ في أنفسهم آيات يَعْرِفُون بها أن الذي أوجدهم من العدم سيعيدُهم بعد ذلك، وأن الذي نقلهم أطواراً من نطفةٍ إلى علقةٍ إلى مضغةٍ إلى آدميٍّ قد نفخ فيه الروح إلى طفل إلى شاب إلى شيخ إلى هرم غيرُ لائقٍ أن يتركَهم سدى مهملين. لا يُنهون، ولا يُؤمرون، ولا يثابون، ولا يعاقبون. {ما خلق اللهُ السمواتِ والأرضَ وما بينهما إلاَّ بالحق}؛ أي: ليبلوكم أيكم أحسن عملاً، {وأجلٍ مسمًّى}؛ أي: مؤقَّت بقاؤهما إلى أجل تنقضي به الدنيا وتجيء القيامة، وتبدَّل الأرض غير الأرض والسماواتُ. {وإنَّ كثيراً من الناس بلقاءِ ربِّهم لكافرونَ}: فلذلك لم يستعدُّوا للقائه، ولم يصدِّقوا رسلَه التي أخبرت به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔