اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں، پھر وہ اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے اور وہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ پس تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے، پھر جب وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برسا دیتا ہے تو اچانک وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔
En
خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اُبھارتی ہیں۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بتہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینھہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں، اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وه خوش خوش ہو جاتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ﴿یُرْسِلُالرِّیٰحَفَتُثِیْرُسَحَابً٘ا ﴾”وہ ہواؤ ں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں“ زمین سے ﴿فَیَبْسُطُهٗفِیالسَّمَآءِ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ ﴿كَیْفَیَشَآءُ ﴾ جس حالت میں چاہتا ہے ﴿وَیَجْعَلُهٗ﴾”اور اس کو کردیتا ہے“ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو ﴿كِسَفًا ﴾ ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ ﴿فَتَرَىالْوَدْقَیَخْرُجُمِنْخِلٰلِهٖ﴾ پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کر دیں۔ ﴿فَاِذَاۤاَصَابَبِهٖ﴾” پھر جب اسے برسا دیتا ہے“ یعنی یہ بارش ﴿مَنْیَّشَآءُمِنْعِبَادِهٖۤاِذَاهُمْیَسْتَبْشِرُوْنَ۠﴾”اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔“ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔﴿وَاِنْكَانُوْامِنْقَبْلِاَنْیُّنَزَّلَعَلَیْهِمْمِّنْقَبْلِهٖ٘لَمُبْلِسِیْنَ ﴾ وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كمال قدرته وتمام نعمته أنَّه {يرسلُ الرياح فتثير سحاباً}: من الأرض، {فيَبْسُطُه في السماء}؛ أي: يمدُّه ويوسِّعه {كيف يشاءُ}؛ أي: على أيِّ حالة أرادها من ذلك، {ثم يجعلُه}؛ أي: ذلك السحاب الواسع {كِسَفاً}؛ أي: سحاباً ثخيناً قد طبَّق بعضَه فوق بعض. {فترى الوَدْقَ يخرُجُ من خلالِهِ}؛ أي: السحاب؛ نقطاً صغاراً متفرِّقة، لا تنزل جميعاً فتُفْسِدُ ما أتت عليه، {فإذا أصابَ}؛ أي: بذلك المطر مَنْ {يشاءُ من عبادِهِ إذا هم يستبشرون}: يبشِّر بعضهم بعضاً بنزوله، وذلك لشدَّة حاجتهم وضرورتهم إليه؛ فلهذا قال: {وإن كانوا مِن قبلِ أن يُنَزَّلَ عليهم من قبلِهِ لَمُبْلِسينَ}؛ أي: آيِسين قانطين لتأخُّر وقت مجيئه؛ أي: فلما نزل في تلك الحال؛ صار له موقعٌ عظيم عندهم وفرحٌ واستبشارٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔