تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 35

اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوۡا بِہٖ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۵﴾
یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے کہ وہ بول کر وہ چیزیں بتاتی ہے جنھیں وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔ En
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے
En
کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہےیعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ کہ وہ دلیل ﴿یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْ٘رِكُوْنَ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم أنزَلْنا عليهم سلطاناً}؛ أي: حجَّة ظاهرةً، {فهو}؛ أي: ذلك السلطان {يتكلَّمُ بما كانوا به يشرِكون}: ويقول لهم: اثْبُتوا على شِرْكِكُم واستمرُّوا على شكِّكُم؛ فإنَّ ما أنتم عليه هو الحقُّ، وما دعتكم الرسلُ إليه باطل؛ فهل ذلك السلطان موجودٌ عندهم حتى يوجِبَ لهم شدَّة التمسُّك بالشرك؟ أم البراهين العقليَّة والسمعيَّة والكتب السماويَّة والرسل الكرام وسادات الأنام قد نَهَوْا أشدَّ النهي عن ذلك، وحذَّروا من سلوك طرقه الموصلة إليه، وحكموا بفساد عقل ودين من ارتكبه؟! فشركُ هؤلاء بغير حجَّة ولا برهانٍ، وإنَّما هو أهواء النُّفوس ونَزَغات الشيطانِ.