تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 26

وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اسی کا ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔ En
اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں
En
اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وله مَن في السمواتِ والأرض}: الكلُّ خلقُه ومماليكه والمتصرِّف فيهم من غير منازعٍ ولا معاونٍ ولا معارضٍ، وكلُّهم قانتون لجلالِهِ، خاضعون لكماله.