تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 21

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف (جاکر) آرام پائو اور اس نے تمھارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔ En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی عنایت، اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے ﴿اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھارے جوڑے بنائے جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ ﴿لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی نکاح و ازدواج پر مترتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع، وجود اولاد کی منفعت، اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَؔكَّـرُوْنَ۠ بے شک جو لوگ غوروفکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن آياتِهِ}: الدالَّة على رحمتِهِ وعنايتِهِ بعباده وحكمتِهِ العظيمة وعلمِهِ المحيط، {أنْ خَلَقَ لكم من أنفسِكم أزواجاً}: تناسِبُكم، وتناسبونهنَّ، وتشاكِلُكم، وتشاكلونهن؛ {لِتَسْكُنوا إليها وجعل بينكم مودَّةً ورحمةً}: بما رتَّب على الزواج من الأسباب الجالبة للمودَّة والرحمة، فحصل بالزوجة الاستمتاع واللَّذَّة والمنفعةُ بوجود الأولاد وتربيتهم والسكون إليها؛ فلا تجد بين أحد في الغالب مثل ما بين الزوجين من المودَّة والرحمة. {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقومٍ يتفكَّرونَ}: يُعْمِلون أفكارَهم، ويتدبَّرون آياتِ الله، وينتَقِلون من شيء إلى شيء.