وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔
En
وہی زندے کو مردے سے نکالتا اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اور اسی طرح تم (دوبارہ زمین میں سے) نکالے جاؤ گے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یُخْرِجُالْحَیَّمِنَالْمَیِّتِ ﴾”وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔“ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَیُخْرِجُالْمَیِّتَمِنَالْحَیِّ ﴾”اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔“ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَیُحْیِالْاَرْضَبَعْدَمَوْتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَتُخْرَجُوْنَ ﴾”اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا“ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يُخْرِجُ الحيَّ من الميِّتِ}: كما يُخرج النباتَ من الأرض الميتة، والسنبلة من الحبة، والشجرة من النواة، والفرخ من البيضة، والمؤمن من الكافر ... ونحو ذلك. {ويخرِجُ الميِّتَ من الحيِّ}: بعكس المذكور، {ويُحيي الأرضَ بعدَ موتِها}: فينزل عليها المطر وهي ميتة هامدةٌ؛ فإذا أنزل عليها الماء؛ اهتزَّتْ، ورَبَتْ، وأنبتَتْ من كلِّ زوج بهيج. {وكذلك تُخْرَجونَ}: من قبورِكم.
فهذا دليلٌ قاطعٌ وبرهانٌ ساطعٌ أنَّ الذي أحيا الأرض بعد موتها فإنه يحيي الأموات؛ فلا فرقَ في نظر العقل بين الأمرين، ولا موجب لاستبعاد أحدهما مع مشاهدة الآخر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔