اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان ﻻنے اور رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد کافر ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راه راست پرنہیں ﻻتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُلَایَهْدِیالْقَوْمَالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَجَزَآؤُهُمْاَنَّعَلَیْهِمْلَعْنَةَاللّٰهِوَالْمَلٰٓىِٕكَةِوَالنَّاسِاَجْمَعِیْنَۙ۰۰خٰؔلِدِیْنَفِیْهَا١ۚلَایُخَفَّفُعَنْهُمُالْعَذَابُوَلَاهُمْیُنْظَ٘رُوْنَ﴾”ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی“ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني أنه يبعد كل البعد أن يهدي الله قوماً عرفوا الإيمان، ودخلوا فيه وشهدوا أن الرسول حق ثم ارتدوا على أعقابهم ناكصين ناكثين، لأنهم عرفوا الحق فرفضوه، ولأن من هذه الحالة وصفه فإن الله يعاقبه بالانتكاس وانقلاب القلب جزاء له إذ عرف الحق فتركه، والباطل فآثره فولاه الله ما تولى لنفسه، فهؤلاء {عليهم لعنة الله والملائكة والناس أجمعين}؛ خالدين في اللعنة والعذاب {لا يخفف عنهم العذاب ولا هم ينظرون}؛ إذا جاءهم أمر الله، لأن الله عمرهم ما يتذكر فيه ما تذكر، وجاءهم النذير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔