تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّاالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾”پھر جنھوں نے انکار کیا“ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمْعَذَابً٘اشَدِیْدًؔافِیالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ﴾”پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا“ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَالَهُمْمِّنْنّٰ٘صِرِیْنَ ﴾”اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا“ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّاالَّذِیْنَاٰمَنُوْا ﴾”لیکن جو لوگ ایمان لائے“ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾”اور نیک اعمال کیے“ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَیُوَفِّیْهِمْاُجُوْرَهُمْ﴾”پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُلَایُحِبُّالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا“ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الجزاء عام لكل من اتصف بهذه الأوصاف من جميع أهل الأديان السابقة. ثم لما بعث سيد المرسلين وخاتم النبيين، ونسخت رسالته الرسالات كلها، ونسخ دينه جميع الأديان صار المتمسك بغير هذا الدين من الهالكين. وقوله تعالى:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔