تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 2

اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ En
خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا
En
اللہ تعالیٰ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا نگہبان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الْحَیُّ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الْقَیُّوْمُ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأخبر تعالى أنه {الحي}؛ كامل الحياة {القيوم}؛ القائم بنفسه المقيم لأحوال خلقه، وقد أقام أحوالهم الدينية وأحوالهم الدنيوية والقدرية، فأنزل على رسوله محمد - صلى الله عليه وسلم - الكتاب بالحق الذي لا ريب فيه وهو مشتمل على الحق.