تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾
اے ہمارے رب! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ En
اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا
En
اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكروا توفيق الله إياهم للإيمان وتوسلهم به إلى تمام النعمة، سألوه الثواب على ذلك، وأن ينجز لهم ما وعدهم به على ألسنة رسله من النصر والظهور في الدنيا، ومن الفوز برضوان الله وجنته في الآخرة، فإنه تعالى لا يخلف الميعاد، فأجاب الله دعاءهم وقبل تضرعهم فلهذا قال: