تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 19

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾
بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا، آپس میں ضد کی وجہ سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔ En
دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے
En
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب یہ ثابت ہوگیا کہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے، تب یہ بتایا کہ کس طرح عبادت کرنا، اور کس دین کو قبول کرنا ضروری ہے۔ وہ دین اسلام ہے اسلام کا مطلب سرتسلیم خم کرنا ہے، یعنی اللہ کی توحید اور اطاعت جس کی دعوت اس کے رسولوں نے دی، جس کی ترغیب اس کی کتابوں نے دی۔ اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ محبت، خوف، امید، انابت اور دعا خالصتاً اس کے لیے ہو اور اس مقصد کے لیے اس کے رسول کی پیروی کی جائے۔ یہی تمام رسولوں کا دین ہے۔ جو ان کی پیروی کرے گا، وہ ان کے راستے پر ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى {إن الدين عند الله}؛ أي الدين الذي لا دين لله سواه ولا مقبول غيره هو {الإسلام}؛ وهو الانقياد لله وحده ظاهراً وباطناً بما شرعه على ألسنة رسله، قال تعالى: {ومن يبتغ غير الإسلام ديناً فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين}؛ فمن دان بغير دين الإسلام فهو لم يدن لله حقيقة لأنه لم يسلك الطريق الذي شرعه على ألسنة رسله.

ثم أخبر تعالى أن أهل الكتاب يعلمون ذلك وإنما اختلفوا فانحرفوا عنه عناداً وبغياً. وإلا فقد جاءهم العلم المقتضي لعدم الاختلاف الموجب للزوم الدين الحقيقي، ثم لما جاءهم محمد - صلى الله عليه وسلم - عرفوه حق المعرفة، ولكن الحسد والبغي والكفر بآيات الله هي التي صدتهم عن اتباع الحق {ومن يكفر بآيات الله فإن الله سريع الحساب}؛ أي: فلينتظروا ذلك فإنه آت وسيجزيهم الله بما كانوا يعملون.