جنھوں نے کہا اللہ نے ہمیں تاکیدی حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی بات کا یقین نہ کریں، یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لائے جسے آگ کھا جائے، کہہ دے بے شک مجھ سے پہلے کئی رسول تمھارے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ چیز لے کر بھی جو تم نے کہی ہے، پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا، اگر تم سچے تھے۔
En
جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وه ہمارے پاس ایسی قربانی نہ ﻻئے جسے آگ کھا جائے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو مجھ سے پہلے تمہارے پاس جو رسول دیگر معجزوں کے ساتھ یہ بھی ﻻئے جسے تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے انہیں کیوں مار ڈاﻻ؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّاللّٰهَعَهِدَاِلَیْنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّانُؤْمِنَلِرَسُوْلٍحَتّٰىیَاْتِیَنَابِقُ٘رْبَ٘انٍتَاْكُلُهُالنَّارُ ﴾”ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔“پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہم السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُ٘لْقَدْجَآءَكُمْرُسُلٌمِّنْقَ٘بْلِیْبِالْبَیِّنٰتِ ﴾”مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِیْقُلْتُمْ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَقَ٘تَ٘لْ٘تُمُوْهُمْ۠اِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾”اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟“ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حال هؤلاء المفترين القائلين {إن الله عهد إلينا}؛ أي: تقدم إلينا وأوصى أن لا نؤمن لرسول حتى يأتينا بقربان تأكله النار فجمعوا بين الكذب على الله وحصر آية الرسل بما قالوه من هذا الإفك المبين، وأنهم إن لم يؤمنوا برسول لم يأتهم بقربان تأكله النار فهم في ذلك مطيعون لربهم ملتزمون عهده، وقد علم أن كل رسول يرسله الله يؤيده من الآيات والبراهين ما على مثله آمن البشر، ولم يقصرها على ما قالوه، ومع هذا فقد قالوا إفكاً لم يلتزموه وباطلاً لم يعملوا به، ولهذا أمر الله رسوله أن يقول لهم: {قل قد جاءكم رسل من قبلي بالبينات} الدالات على صدقهم {وبالذي قلتم} بأن أتاكم بقربان تأكله النار {فلم قتلتموهم إن كنتم صادقين}؛ أي: في دعواكم الإيمان برسول يأتيكم بقربان تأكله النار، فقد تبين بهذا كذبهم وعنادهم وتناقضهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔