تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 178

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہر گز گمان نہ کریں کہ جو مہلت ہم انھیں دے رہے ہیں وہ ان کی جانوں کے لیے بہتر ہے، ہم تو انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ En
اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا
En
کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لئے ہے کہ وه گناہوں میں اور بڑھ جائیں، ان ہی کے لئے ذلیل کرنے واﻻ عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لیے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اور اضافہ ہو گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا نُ٘مْلِیْ لَهُمْ لِیَ٘زْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ہم تو انھیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کی اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے در پے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غالب اور مقتدر ہستی کی مانند پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہیے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولا يظن الذين كفروا بربهم، ونابذوا دينه، وحاربوا رسوله أنَّ تركنا إياهم في هذه الحياة الدنيا وعدم استئصالنا لهم وإملائنا لهم خير لأنفسهم ومحبة منا لهم، كلا ليس الأمر كما زعموا، وإنما ذلك لشر يريده الله بهم وزيادة عذاب وعقوبة إلى عذابهم، ولهذا قال: {إنما نملي لهم ليزدادوا إثماً ولهم عذاب مهين}، فالله تعالى يملي للظالم حتى يزداد طغيانه، ويترادف كفرانه حتى إذا أخذه أخذه أخذ عزيز مقتدر، فليحذر الظالمون من الإمهال، ولا يظنوا أن يفوتوا الكبير المتعال.