تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾
تو کیا وہ شخص جو اللہ کی رضا کے پیچھے چلا اس شخص جیسا ہے جو اللہ کی طرف سے سخت ناراضی لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ En
بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
En
کیا پس وه شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے درپے ہے، اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟ اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہو سکتے ﴿اَفَ٘مَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَ٘مَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَ (السجدۃ: 32؍18) بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هُمْ دَرَجٰؔتٌ عِنْدَ اللّٰهِ لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انھیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فروترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه لا يستوي من كان قصده رضوان رَبِّه والعمل على ما يرضيه كمن ليس كذلك ممن هو مكب على المعاصي مسخط لربه، هذان لا يستويان في حكم الله وحكمة الله وفي فِطَر عباد الله {أفمن كان مؤمناً كمن كان فاسقاً لا يستوون}؛ لهذا قال هنا: {هم درجات عند الله}؛ أي: كل هؤلاء متفاوتون في درجاتهم ومنازلهم بحسب تفاوتهم في أعمالهم.

فالمتبعون لرضوان الله يسعون في نيل الدرجات العاليات والمنازل والغرفات، فيعطيهم الله من فضله وجوده على قدر أعمالهم، والمتبعون لمساخط الله يسعون في النزول في الدركات إلى أسفل سافلين كل على حسب عمله، والله بصير بأعمالهم لا يخفى عليه منها شيء، بل قد علمها وأثبتها في اللوح المحفوظ ووكل ملائكته الأمناء الكرام أن يكتبوها ويحفظوها ويضبطوها.