تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 158

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
اور بلاشبہ اگر تم مر جاؤ، یا قتل کیے جاؤ تو یقینا تم اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ En
اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے
En
بالیقین خواہ تم مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی کئے جاؤ گے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأن الخلق أيضاً إذا ماتوا، أو قتلوا بأي حالة كانت، فإنما مرجعهم إلى الله ومآلهم إليه، فيجازي كلاًّ بعمله، فأين الفرار إلا إلى الله، وما للخلق عاصم إلا الاعتصام بحبل الله.