تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 138

ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾
یہ لوگوں کے لیے ایک وضاحت ہے اور بچنے والوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت ہے۔ En
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
En
عام لوگوں کے لئے تو یہ (قرآن) بیان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ونصیحت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ هٰؔذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ یعنی یہ واضح دلیل ہے جو لوگوں کے سامنے باطل میں سے حق کو واضح کر دیتی ہے۔ اہل شقاوت میں سے اہل سعادت کو ممتاز کر دیتی ہے اور یہ اس عذاب کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو مبتلا کیا۔ ﴿ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةٌ لِّلْ٘مُتَّقِیْنَ۠ اورمتقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات انھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتی اور انھیں گمراہی کے راستے سے روکتی ہیں۔ رہے باقی لوگ تو یہ ان کے سامنے کھول کر بیان کر دینا ہے جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کو جان کر ہلاک ہو۔
نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ﴿ هٰؔذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ میں قرآن مجید اور ذکر حکیم کی طرف اشارہ ہو اور یہ کہ یہ عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے بیان ہے اور اہل تقویٰ کے لیے خاص طور پر ہدایت اور نصیحت ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هذا بيان للناس}؛ أي: دلالة ظاهرة تبين للناس الحق من الباطل، وأهل السعادة من أهل الشقاوة، وهو الإشارة إلى ما أوقع الله بالمكذبين، {وهدى وموعظة للمتقين}، لأنهم هم المنتفعون بالآيات، فتهديهم إلى سبيل الرشاد وتعظهم وتزجرهم عن طريق الغي، وأما باقي الناس فهي بيان لهم تقوم عليهم الحجة من الله ليهلك من هلك عن بينة، ويحتمل أن الإشارة في قوله: {هذا بيان للناس}، للقرآن العظيم والذكر الحكيم وأنه بيان للناس عموماً، وهدى وموعظة للمتقين خصوصاً، وكلا المعنيين حق.