تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 133

وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ
اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے، ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ En
اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے
En
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أمرهم تعالى بالمسارعة إلى مغفرته وإدراك جنته التي عرضها السماوات والأرض، فكيف بطولها التي أعدها الله للمتقين؟! فهم أهلها وأعمال التقوى هي الموصلة إليها.