تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 125

بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
کیوں نہیں! اگر تم صبر کرو اور ڈرتے رہو اور وہ اپنے اسی جوش میں تم پر آپڑیں تو تمھارا رب پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرے گا، جو خاص نشان والے ہوں گے۔ En
ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا
En
کیوں نہیں، بلکہ اگر تم صبر و پرہیزگاری کرو اور یہ لوگ اسی دم تمہارے پاس آجائیں تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جو نشاندار ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَ٘اْتُوْؔكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰؔذَا بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔ ﴿ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰؔذَا کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ یُمْدِدْؔكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰ٘فٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَ تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّؔكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْـًٔـا اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بلى إن تصبروا وتتقوا ويأتوكم من فورهم هذا}؛ أي: من حملتهم هذه بهذا الوجه.

{يمددكم ربكم بخمسة آلاف من الملائكة مسومين}؛ أي: معلمين علامة الشجعان. واختلف الناس هل كان هذا الإمداد حصل فيه من الملائكة مباشرة للقتال، كما قاله بعضهم أو أن ذلك تثبيت من الله لعباده المؤمنين، وإلقاء الرعب في قلوب المشركين كما قاله كثير من المفسرين ويدل عليه قوله: