تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 115

وَ مَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ En
اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
En
یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں ان کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَ٘نْ یُّكْ٘فَرُوْهُان کی ناقدری نہیں کی جائے گی انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ۠ اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (المائدۃ:5؍27) اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بين تعالى أن كل ما فعلوه من خير قليل أو كثير فإن الله تعالى سيقبله حيث كان صادراً عن إيمان وإخلاص، {فلن يكفروه}؛ يعني لن ينكر ما عملوه ولن يهدر {والله عليم بالمتقين}؛ وهم الذين قاموا بالخيرات وتركوا المحرمات لقصد رضا الله وطلب ثوابه.