جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا؟ تو عذاب چکھو، اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔
En
جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب وترہیب ہے جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَّوْمَتَ٘بْیَضُّوُجُوْهٌ ﴾”جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے“ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنھوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ﴿ وَّتَسْوَدُّوُجُوْهٌ ﴾”اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے“ وہ بدنصیبوں اوربدکاروں کے چہرے ہوں گے، جو اختلاف و افتراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے۔ اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقّٰىهُمْنَضْرَةًوَّسُرُوْرًا﴾ (الدہر:76؍11) ”اور انھیں تازگی اور خوشی پہنچائی“ تروتازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِیْنَكَسَبُواالسَّیِّاٰتِجَزَآءُسَیِّئَةٍۭبِمِثْلِهَا١ۙوَتَرْهَقُهُمْذِلَّةٌ١ؕمَالَهُمْمِّنَاللّٰهِمِنْعَاصِمٍ١ۚكَاَنَّمَاۤاُغْشِیَتْوُجُوْهُهُمْقِطَعًامِّنَالَّیْلِمُظْلِمًا١ؕاُولٰٓىِٕكَاَصْحٰؔبُالنَّارِ١ۚهُمْفِیْهَاخٰؔلِدُوْنَ ﴾ (یونس:1؍27) ”جنھوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انھیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“﴿فَاَمَّاالَّذِیْنَاسْوَدَّتْوُجُوْهُهُمْ ﴾”اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے“انھیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا: ﴿ اَكَفَرْتُمْبَعْدَاِیْمَانِكُمْ﴾”کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا“ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر و ضلالت کو کیوں ترجیح دی؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ ﴿ فَذُوْقُواالْعَذَابَبِمَاكُنْتُمْتَكْ٘فُرُوْنَ ﴾ اب ”اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو“ تمھارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو۔ ﴿ وَاَمَّاالَّذِیْنَابْیَضَّتْوُجُوْهُهُمْ ﴾”اور جن کے چہرے سفید ہوں گے“ انھیں مبارک باد دی جائے گی، اورعظیم ترین بشارت ملے گی، یعنی انھیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔ ﴿ فَ٘فِیْرَحْمَةِاللّٰهِ١ؕهُمْفِیْهَاخٰؔلِدُوْنَ﴾”وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے“ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بتفاوت الخلق يوم القيامة في السعادة والشقاوة، وأنه تبيض وجوه أهل السعادة، الذين آمنوا بالله، وصدقوا رسله وامتثلوا أمره واجتنبوا نهيه، وأن الله تعالى يدخلهم الجنات ويفيض عليهم أنواع الكرامات وهم فيها خالدون، وتسود وجوه أهل الشقاوة الذين كذبوا رسله وعصوا أمره وفرقوا دينهم شيعاً وأنهم يوبخون فيقال: {أكفرتم بعد إيمانكم}؛ فكيف اخترتم الكفر على الإيمان {فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔