تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 87

وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَیۡکَ وَ ادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۸۷﴾
اور یہ لوگ تجھے اللہ کی آیات سے کسی صورت روکنے نہ پائیں، اس کے بعد کہ وہ تیری طرف اتاری گئیں اور اپنے رب کی طرف بلا اور ہرگز مشرکوں سے نہ ہو۔ En
اور وہ تمہیں خدا کی آیتوں کی تبلیغ سے بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہو اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہو جیو
En
خیال رکھیئے کہ یہ کفار آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تبلیﻎ سے روک نہ دیں اس کے بعد کہ یہ آپ کی جانب اتاری گئیں، تو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔
﴿ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْ٘مُشْ٘رِكِیْنَ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا يَصُدُّنَّكَ عن آياتِ الله بعد إذْ أُنزِلَتْ إليك}: بل أبْلِغْها وأنْفِذْها، ولا تُبالِ بمكرِهم، ولا يَخْدَعُنَّكَ عنها، ولا تتبعْ أهواءهم، {وادعُ إلى ربِّك}؛ أي: اجعل الدعوة إلى ربِّك منتهى قصدِكَ وغاية عَمَلِكَ، فكلُّ ما خالف ذلك؛ فارفُضْه من رياءٍ أو سمعةٍ أو موافقةِ أغراض أهل الباطل؛ فإنَّ ذلك داعٍ إلى الكون معهم ومساعدتهم على أمرهم، ولهذا قال: {ولا تكوننَّ من المشركينَ}: لا في شركهم، ولا في فروعه وشعبه التي هي جميع المعاصي.