تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 82

وَ اَصۡبَحَ الَّذِیۡنَ تَمَنَّوۡا مَکَانَہٗ بِالۡاَمۡسِ یَقُوۡلُوۡنَ وَیۡکَاَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ ۚ لَوۡ لَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا لَخَسَفَ بِنَا ؕ وَیۡکَاَنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ کہہ رہے تھے افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہم پر احسان کیا تو وہ ضرور ہمیں دھنسا دیتا، افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ En
اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے
En
اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وه آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ بھی؟ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ یٰؔلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔ ﴿ یَقُوْلُوْنَ وہ کہنے لگے دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں: ﴿ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَیَقْدِرُ ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔
﴿ لَوْلَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْ٘لِحُ الْ٘كٰفِرُوْنَ اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے یعنی دنیا و آخرت میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأصبح الذين تَمَنَّوا مكانه بالأمس}؛ أي: الذين يريدونَ الحياة الدنيا، الذين قالوا: يا ليت لنا مثل ما أوتي قارونُ {يقولون}: متوجِّعين ومعتَبِرين وخائفينَ من وقوع العذاب بهم: {ويكأنَّ اللهَ يَبْسُطُ الرزقَ لِمَن يشاءُ من عبادِهِ ويقدِرُ}؛ أي: يضيِّقُ الرزق على من يشاء. فعلمنا حينئذٍ أنَّ بسطَه لقارون ليس دليلاً على خير فيه، وأنَّنا غالطون في قولنا: إنَّه لذو حظٍّ عظيم، و {لولا أن مَنَّ الله علينا}: فلم يعاقِبْنا على ما قُلْنا؛ فلولا فضلُه ومنَّتُه؛ {لخسف بنا}: فصار هلاكُ قارون عقوبةً له وعبرةً وموعظةً لغيرِهِ، حتى إنَّ الذين غبطوه سمعتَ كيف ندِموا، وتغيَّر فِكْرُهم الأول، {ويكأنَّه لا يفلحُ الكافرون}؛ أي: لا في الدنيا، ولا في الآخرة.