تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 63

قَالَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَغۡوَیۡنَا ۚ اَغۡوَیۡنٰہُمۡ کَمَا غَوَیۡنَا ۚ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَیۡکَ ۫ مَا کَانُوۡۤا اِیَّانَا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۶۳﴾
وہ لوگ کہیں گے جن پر بات ثابت ہو چکی، اے ہمارے رب! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انھیں اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے، ہم تیرے سامنے بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں، یہ ہماری توعبادت نہیں کرتے تھے۔ En
(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
En
جن پر بات آچکی وه جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وه ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا، ہم نے انہیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے، ہم تیری سرکار میں اپنی دست برداری کرتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔