اور تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں، یہاں تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول بھیجے جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھے اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔
En
اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں
تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ﻇلم وستم پر کمر کس لیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَمَاكَانَرَبُّكَمُهْلِكَالْ٘قُ٘رٰى ﴾”اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔“ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰىیَبْعَثَفِیْۤاُمِّهَا ﴾”جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔“ یعنی اس بستی اور شہر میں، جہاں سے وہ گزرتے ہیں، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں۔ ﴿ رَسُوْلًایَّتْلُوْاعَلَیْهِمْاٰیٰتِنَا﴾”رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔“ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔
﴿ وَمَاكُنَّامُهْلِـكِیالْ٘قُ٘رٰۤىاِلَّاوَاَهْلُهَاظٰ٘لِمُوْنَ ﴾”اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔“ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن حكمتِهِ ورحمتِهِ أنْ لا يعذِّب الأممَ بمجرَّدِ كفرِهم قبل إقامةِ الحجَّة عليهم بإرسال الرسل إليهم، ولهذا قال: {وما كان ربُّك مُهْلِكَ القرى}؛ أي: بكفرِهم وظلمِهم؛ {حتى يَبْعَثَ في أمِّها}؛ أي: في القرية والمدينة التي إليها يَرْجِعون، ونحوها يتردَّدون، وكلُّ ما حولها ينتَجِعها، ولا تَخْفى عليه أخبارها، {رسولاً يتلو عليهم آياتِنا}: الدالَّة على صحَّة ما جاء به وصِدْقِ ما دعاهم إليه، فيبلغُ قولُه قاصِيَهم ودانِيَهم؛ بخلاف بعث الرسل في القرى البعيدة والأطراف النائية؛ فإنَّ ذلك مظنَّة الخفاء والجفاء، والمدن الأمَّهات مظنَّة الظُّهور والانتشار، وفي الغالب أنَّهم أقلُّ جفاء من غيرهم، {وَما كُنَّا مُهْلِكي القُرى إلاَّ وأهلُها ظالمونَ}: بالكفر والمعاصي، مستحقُّون للعقوبة. والحاصلُ أنَّ الله لا يعذِّب أحداً إلا بظُلْمه وإقامةِ الحجَّةِ عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔