تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 44

وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِیِّ اِذۡ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسَی الۡاَمۡرَ وَ مَا کُنۡتَ مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی اور نہ تو حاضر ہونے والوں سے تھا۔ En
اور جب ہم نے موسٰی کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے
En
اور طور کے مغربی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْ٘غَرْبِیِّ اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَ اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا قصَّ الله على رسولِهِ ما قصَّ من هذه الأخبار الغيبيَّة؛ نبَّه العبادَ على أنَّ هذا خبرٌ إلهيٌّ محضٌ، ليس للرسول طريقٌ إلى علمِهِ؛ إلاَّ من جهة الوحي؛ ولهذا قال: {وما كنتَ بجانِبِ الغربيِّ}؛ أي: بجانب الطُّورِ الغربيِّ وقت قضائنا لموسى الأمر، {وما كنتَ من الشاهدينَ}: على ذلك حتى يُقالَ: إنَّه وصل إليك من هذا الطريق.