تواس نے ان کے لیے پانی پلا دیا، پھر پلٹ کر سائے کی طرف آگیا اور اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔
En
تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَ٘سَقٰىلَهُمَا ﴾ پس موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّتَوَلّٰۤىاِلَىالظِّلِّ ﴾”پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔“ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّاِنِّیْلِمَاۤاَنْزَلْتَاِلَیَّمِنْخَیْرٍفَقِیْرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فرقَّ لهما موسى عليه السلام ورحِمَهما، {فسقى لهما}: غير طالبٍ منهما الأجرَ، ولا له قصدٌ غيرَ وجه الله تعالى، فلما سقى لهما، وكان ذلك وقت شدة حرِّ وسط النهار؛ بدليل قوله: {ثمَّ تولَّى إلى الظِّلِّ}؛ مستريحاً لتلك الظلال بعد التعب، {فقال} في تلك الحالة مسترزقاً ربَّه: {ربِّ إنِّي لما أنزلتَ إليَّ من خيرٍ فقيرٌ}؛ أي: إنِّي مفتقرٌ للخير الذي تسوقُهُ إليَّ وتيسِّرُه لي، وهذا سؤالٌ منه بحالِهِ، والسؤال بالحال أبلغُ من السؤال بلسان المقال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔