تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْسِیْرُوْافِیالْاَرْضِفَانْ٘ظُ٘رُوْاكَیْفَكَانَعَاقِبَةُالْمُجْرِمِیْنَ ﴾”کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟“ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثمَّ نبَّههم على صدق ما أخبرت به الرسل، فقال: {قل سيروا في الأرض فانْظُروا كيف كانَ عاقبةُ المجرمينَ}؛ فلا تجدون مجرماً قد استمرَّ على إجرامه إلاَّ وعاقبتُه شرُّ عاقبة، وقد أحلَّ الله به من الشرِّ والعقوبة ما يَليق بحاله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔