تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 69

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۶۹﴾
کہہ زمین میں چلو پھرو ، پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔ En
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے
En
کہہ دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر ذرا دیکھو تو سہی کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْ٘ظُ٘رُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثمَّ نبَّههم على صدق ما أخبرت به الرسل، فقال: {قل سيروا في الأرض فانْظُروا كيف كانَ عاقبةُ المجرمينَ}؛ فلا تجدون مجرماً قد استمرَّ على إجرامه إلاَّ وعاقبتُه شرُّ عاقبة، وقد أحلَّ الله به من الشرِّ والعقوبة ما يَليق بحاله.