تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 63

اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
یا وہ جو تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے اور وہ جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری دینے کے لیے بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ En
بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے
En
کیا وه جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راه دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وباﻻتر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ کون ہے جو تمھیں اس وقت راہ دکھاتا ہے جب تم بحروبر کی تاریکیوں میں سفر کر رہے ہوتے ہو جہاں تمھارے پاس کوئی راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی علامت دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی ایسا وسیلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے سے تم نجات حاصل کر سکو، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی تمھارے کام آتی ہے، وہ تمھارے لیے راستے کو آسان کرتا ہے وہ تمھیں اسباب مہیا کرتا ہے جن کے ذریعے سے تم صحیح راستہ پا لیتے ہو۔ ﴿ وَمَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ اور کون ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں، ان کو اکٹھا کرتی ہیں پھر ان کو بارآور کرتی ہیں اور بارش برسنے سے پہلے ہی بندے ان ہواؤں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے جس نے یہ تمام افعال سرانجام دیے ہیں یا صرف اکیلے اللہ تعالیٰ سے یہ افعال صادر ہوئے ہیں؟ پھرتم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک ٹھہراتے ہو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ ﴿ تَ٘عٰ٘لَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ اللہ بہت بڑا اور ان کے شرک اور ہمسر قرار دینے سے منزہ اور پاک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: من هو الذي يهديكم حين تكونون في ظُلُمات البرِّ والبحرِ حيث لا دليل ولا مَعْلَمَ يُرى ولا وسيلةَ إلى النجاة إلاَّ هدايتُه لكم وتيسيرُهُ الطريق وجعل ما جعل لكم من الأسباب التي تهتدون بها؟! {ومَن يرسِلُ الرياح بُشراً بين يدي رحمتِهِ}؛ أي: بين يدي المطر، فيرسِلُها، فتثيرُ السحاب، ثم تؤلِّفُه، ثم تجمعُه، ثم تُلْقِحُه، ثم تُدِرُّه، فيستبشر بذلك العباد قبل نزول المطر. {أإلهٌ مع الله}: فعل ذلك؟! أم هو وحده الذي انفرد به؟! فلم أشركتُم معه غيرَه وعبدتُم سواه؟! {تعالى الله عما يشرِكون}: تعاظم وتنزَّه وتقدَّس عن شِرْكِهم وتسوِيَتِهِم به غيره.