تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 5

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَ ہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۵﴾
یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ En
یہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں
En
یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وه سخت نقصان یافتہ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْ٘سَرُوْنَ اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين لهم سوء العذاب}؛ أي: أشدُّه وأسوؤه وأعظمه. {وهم} بالآخرةِ {هم الأخسرونَ}: حَصَرَ الخَسارَ فيهم لكونِهِم خَسِروا أنفسهم وأهليهم يوم القيامة، وخسروا الإيمان الذي دعتهم إليه الرسل.