تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 43

وَ صَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلاشبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔ En
اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی
En
اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وه اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی، یقیناً وه کافر لوگوں میں سے تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ (اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله تعالى: {وصدَّها ما كانتْ تعبُدُ من دونِ الله}؛ أي: عن الإسلام، وإلاَّ؛ فلها من الذكاء والفطنة ما به تعرفُ الحقَّ من الباطل، ولكنَّ العقائدَ الباطلة تُذْهِبُ بصيرة القلب. {إنَّها كانت من قوم كافرين}: فاستمرَّتْ على دينهم، وانفرادُ الواحد عن أهل الدِّين والعادة المستمرَّة بأمرٍ يراه بعقلِهِ من ضلالهم وخطئهم من أندرِ ما يكون؛ فلهذا لايُسْتَغْرَبُ بقاؤُها على الكفرِ.