تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر سلیمان علیہ السلام نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّ٘رُوْالَهَاعَرْشَهَا ﴾”اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔“ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنْظُ٘رْ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهْتَدِیْۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال لِمَنْ عندَه: {نَكِّروا لها عرشَها}؛ أي: غيروه بزيادةٍ ونقص، ونحن في ذلك: {ننظُرْ}: مختبرينَ لعقلِها: {أتهتدي} للصوابِ ويكونُ عندَها ذكاءٌ وفطنةٌ تَليقُ بملكها، {أم تكونُ من الذين لا يهتدونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔