تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 37

اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَ لَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
ان کے پاس واپس جا، اب ہر صورت ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں کوئی طاقت نہیں اور ہر صورت انھیں اس سے اس حال میں ذلیل کر کے نکالیں گے کہ وہ حقیر ہوں گے۔ En
ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے
En
جا ان کی طرف واپس لوٹ جا، ہم ان (کے مقابلہ) پر وه لشکر ﻻئیں گے جن کے سامنے پڑنے کی ان میں طاقت نہیں اور ہم انہیں ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرْجِـعْ اِلَیْهِمْ ان کے پاس واپس جاؤ۔ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔ ﴿وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّؔنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمان علیہ السلام کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أوصى الرسول من غير كتاب لما رأى من عقلِهِ وأنَّه سينقُلُ كلامَه على وجهه، فقال: {ارجِعْ إليهم}؛ أي: بهديَّتك، {فَلَنَأتِيَنَّهم بجنودٍ لا قِبَلَ لهم}؛ أي: لا طاقة لهم {بها وَلَنُخْرِجَنَّهم منها أذلَّةً وهم صاغرونَ}: فرجع إليهم وأبلَغَهم ما قال سليمانُ، وتجهَّزوا للمسير إلى سليمانَ.