تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اِنِّیْۤاُلْ٘قِیَاِلَیَّكِتٰبٌكَرِیْمٌ ﴾”میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔“ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّهٗمِنْسُلَ٘یْمٰنَوَاِنَّهٗبِسْمِاللّٰهِالرَّحْمٰنِالرَّحِیْمِۙ ۰۰ اَلَّاتَعْلُوْاعَلَیَّوَاْتُوْنِیْمُسْلِمِیْنَ ﴾”وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔“ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمان علیہ السلام کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فذهب به، فألقاه عليها، فقالت لقومها: {إني أُلْقِي إليَّ كتابٌ كريمٌ}؛ أي: جليل المقدار، من أكبر ملوك الأرض، ثم بيَّنت مضمونَه، فقالت: {إنَّه من سليمانَ وإنَّه بِسْم الله الرحمن الرحيم. أن لا تَعْلوا عليَّ وأْتُوني مسلمينَ}؛ أي: لا تكونوا فوقي، بل اخضعوا تحت سلطاني، وانقادوا لأوامري، وأقبلوا إليَّ مسلمين. وهذا في غاية الوجازة مع البيان التامِّ؛ فإنَّه تضمَّن نهيَه عن العلوِّ عليه والبقاء على حالهم التي هم عليها، والانقيادَ لأمرِهِ والدخول تحت طاعته، ومجيئَهم إليه ودعوتهم إلى الإسلام. وفيه استحبابُ ابتداء الكتب بالبسملة كاملةً، وتقديمُ الاسم في أول عنوان الكتاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔